Skip to main content

اَوْفُوا الْـكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَۚ

أَوْفُوا۟
پورا کرو
ٱلْكَيْلَ
ناپ کو
وَلَا
اور نہ
تَكُونُوا۟
تم ہوجاؤ
مِنَ
میں سے
ٱلْمُخْسِرِينَ
خسارہ دینے والوں

تم پیمانہ پورا بھرا کرو اور (لوگوں کے حقوق کو) نقصان پہنچانے والے نہ بنو،

تفسير

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيْمِۚ

وَزِنُوا۟
اور تولو
بِٱلْقِسْطَاسِ
ترازو سے
ٱلْمُسْتَقِيمِ
صحیح

اور سیدھی ترازو سے تولا کرو،

تفسير

وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۤءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِى الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَۚ

وَلَا
اور نہ
تَبْخَسُوا۟
تم کم کرکے دو
ٱلنَّاسَ
لوگوں کو
أَشْيَآءَهُمْ
ان کی اشیاء۔ چیزیں
وَلَا
اور نہ
تَعْثَوْا۟
تم فساد کرو
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین
مُفْسِدِينَ
مفسد بن کر

اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم (تول کے ساتھ) مت دیا کرو اور ملک میں (ایسی اخلاقی، مالی اور سماجی خیانتوں کے ذریعے) فساد انگیزی مت کرتے پھرو،

تفسير

وَاتَّقُوا الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالْجِـبِلَّةَ الْاَوَّلِيْنَۗ

وَٱتَّقُوا۟
اور ڈرو
ٱلَّذِى
اس ذات سے
خَلَقَكُمْ
جس نے پیدا کیا تم کو
وَٱلْجِبِلَّةَ
اور مخلوق، نسل
ٱلْأَوَّلِينَ
پہلوں کی

اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی امتوں کو پیدا فرمایا،

تفسير

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَۙ

قَالُوٓا۟
انہوں نے کہا
إِنَّمَآ
بیشک
أَنتَ
تو
مِنَ
میں سے ہے
ٱلْمُسَحَّرِينَ
سحرزدہ لوگوں

وہ کہنے لگے: (اے شعیب!) تم تو محض جادو زدہ لوگوں میں سے ہو،

تفسير

وَمَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُـنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَۚ

وَمَآ
اور نہیں
أَنتَ
تو
إِلَّا
مگر
بَشَرٌ
ایک انسان
مِّثْلُنَا
ہم جیسا
وَإِن
اور بیشک
نَّظُنُّكَ
ہم گمان کرتے ہیں تجھ کو
لَمِنَ
البتہ میں سے ہو
ٱلْكَٰذِبِينَ
جھوٹوں

اور تم فقط ہمارے جیسے بشر ہی تو ہو اور ہم تمہیں یقیناً جھوٹے لوگوں میں سے خیال کرتے ہیں،

تفسير

فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۤءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَۗ

فَأَسْقِطْ
تو گرادو
عَلَيْنَا
ہم پر
كِسَفًا
ایک ٹکڑا
مِّنَ
سے
ٱلسَّمَآءِ
آسمان
إِن
اگر ہو
كُنتَ
تم
مِنَ
میں سے
ٱلصَّٰدِقِينَ
سچوں

پس تم ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو،

تفسير

قَالَ رَبِّىْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ

قَالَ
اس نے کہا
رَبِّىٓ
میرا رب
أَعْلَمُ
زیادہ جانتا ہے
بِمَا
ساتھ اس کے
تَعْمَلُونَ
جو تم عمل کرتے ہو

(شعیب علیہ السلام نے) فرمایا: میرا رب ان (کارستانیوں) کو خوب جاننے والا ہے جو تم انجام دے رہے ہو،

تفسير

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِۗ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ

فَكَذَّبُوهُ
تو انہوں نے جھٹلایا اس کو
فَأَخَذَهُمْ
تو پکڑ لیا ان کو
عَذَابُ
عذاب نے
يَوْمِ
دن کے
ٱلظُّلَّةِۚ
چھتری والے
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
كَانَ
تھا
عَذَابَ
عذاب
يَوْمٍ
دن کا
عَظِيمٍ
بڑے

سو انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا پس انہیں سائبان کے دن کے عذاب نے آپکڑا، بیشک وہ زبردست دن کا عذاب تھا،

تفسير

اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۗ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ

إِنَّ
بیشک
فِى
اس میں
ذَٰلِكَ
البتہ
لَءَايَةًۖ
ایک نشانی ہے
وَمَا
اور نہ
كَانَ
تھے
أَكْثَرُهُم
ان میں سے اکثر
مُّؤْمِنِينَ
مومن۔ ماننے والے

بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے۔،

تفسير