اَوْفُوا الْـكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَۚ
تم پیمانہ پورا بھرا کرو اور (لوگوں کے حقوق کو) نقصان پہنچانے والے نہ بنو،
وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيْمِۚ
اور سیدھی ترازو سے تولا کرو،
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۤءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِى الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَۚ
اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم (تول کے ساتھ) مت دیا کرو اور ملک میں (ایسی اخلاقی، مالی اور سماجی خیانتوں کے ذریعے) فساد انگیزی مت کرتے پھرو،
وَاتَّقُوا الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالْجِـبِلَّةَ الْاَوَّلِيْنَۗ
اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی امتوں کو پیدا فرمایا،
قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَۙ
وہ کہنے لگے: (اے شعیب!) تم تو محض جادو زدہ لوگوں میں سے ہو،
وَمَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُـنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَۚ
اور تم فقط ہمارے جیسے بشر ہی تو ہو اور ہم تمہیں یقیناً جھوٹے لوگوں میں سے خیال کرتے ہیں،
فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۤءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَۗ
پس تم ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو،
قَالَ رَبِّىْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
(شعیب علیہ السلام نے) فرمایا: میرا رب ان (کارستانیوں) کو خوب جاننے والا ہے جو تم انجام دے رہے ہو،
فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِۗ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ
سو انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا پس انہیں سائبان کے دن کے عذاب نے آپکڑا، بیشک وہ زبردست دن کا عذاب تھا،
اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۗ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ
بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے۔،